“Na Janay Asal Kya Hoga.. Aqs Toh Bay-Misaal Hai Murshid!”

میں نے لوگوں کو اکثر کہتے سنا ہےکہ دِل کی سنو ، دل سے کرو، دل کی مانو، دل نا دُکھائو۔ میں یہ سوچتی ہوں کہ اگر یہ دوسرے جسم کے اعضاء جیسا ہی ہے تو پِھر دل کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے ؟ آخر یہ دِل ہے کیا ؟

دِل کے لفظی معنی بتاتےہیں کے یہ کسی چیز کا مرکز یا سینٹر ہے. ایسا پوائنٹ جس پر وہ چیز کھڑی ہے. انسانی جسم میں یہ ایک آرگن ہے جسکا کام ہے خون کی صفائی کرنا. لیکن جب ہم اسکو بیشتر بار مخاطب کرتے ہیں تو یہ صرف ایک آرگن نہیں رہتا

اللہ والے کہتے ہیں کے دِل کو صاف رکھو یہ اللہ کا گھر ہے . لیکن دِل تو میرے پاس ہے ، آپ کے پاس ہے اور دنیا کے ہر انسان کے پاس ہے تو کیا اللہ کے یہ سب گھر ہیں ؟ وہ کہتے ہیں کے اللہ نا آسمانوں میں سماتا ہے نا زمین کی وُسعتوں میں مگر پھر ایک مومن کے دِل میں سما جاتا ہے؟ حضرت نصیرالدین چراغ دہہلویؒ فرماتے ہیں کے کیا عجب تماشہ ہے، ایک بُلبلے میں ایک سمندر کا سما جانا؟

اب یہ جو بلبلہ ہے جو محلِ ربانی ہے، یہ وہ چیز ہے جو ہر انسان کے پاس ہے. لیکن ہمیں تو اپنے دل کی خبر ہی نہیں. اپنے دِل کا پتہ ہی نہیں رکھتے. ہاں مگر دوسروں کے دل کا ضرور پتہ رکھتے ہیں۔ بھول جاتے ہیں کہ اپنے دِل کو نہیں جانیں گے تو اسکو اللہ کا گھر کیسے بنائیں گے؟ وہ بادشاہوں کا بادشاہ، وہ اِس غلیظ سے محل میں رہے گا ؟ جس پر کینے کے دھبے ہوں، غصے اور لالچ کی غلاظت کے پردے ہوں،ظلم کا، حسد کا، دوسرے کا حق کھانے کا کچرا ہو.. اندازہ کریں کہ وہ رب جس کے سامنے حاضر ہونے سے پہلے اس کے حبیبﷺ جیسی ہستی بھی وضو کرتے ہیں تو اس کے محل کا معیار کیا ہوگا ؟ جس نے اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیےخود آپ سے صفائی کی شرط رکھی ہے۔ جسکا حبیب کہہ رہا ہے کے نِصف ایمان تو یہ صفائی ہے . تو وہ صفائی کیا صرف جسمانی ہے ؟ نہیں!یہ صفائی تو دراصل اس دِل کی صفائی ہے جسکی آپ نے کبھی قدر ہی نہیں کی. آپکا دِل ہی تو اس پاک رب کا گھر ہے.. اسکو صاف تو کرنا ہے ،پاکیزہ کرنا ہے. وہ پاکیزگی بلڈ سرکولیشن سے تو نہیں آتی اورمحض وہ آرگن تو اللہ کا گھر نہیں ہے. میں نے تو اتنی کوشش بھی نہیں کی کے اپنے خالق کا گھر پہچان سکوں جہاں پر اس نے مجھ سے ہم کلام ہونا ہے، اسکی تجّلیوں نے اُترنا ہے، اس کے لیے میں نےکبھی کوشش ہی نہیں کی. باہر سے اپنے ظاہری ٹھاٹ باٹ میں لگا رہا۔ منیی کیور بھی کروا لیا، میک اپ اور فیشل بھی ہوتے رہے لیکن دِل، جو میرے رب کا گھر ہے اُس کو میلا ہی رکھا

اب اِس صفائی سے ہوتا کیا ہے ؟ قرآن نے کہا ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ! ہدایت ہے مُتقّی کے لیے ۔مُتّقی کون ہے ؟ تقوے والا۔ وہ پرہیزگار جس نے اپنے دِل کی صفائی کی ۔ ندامت کے آنسوؤں سے التجا کے آنسوؤں سے ۔ اس نے اپنے دِل کو صاف کیا اس میں سے سب گندگی کو نکال باہر کیا۔ وہ مُتّقی ہو گیا۔ اب اُس شخص کے لیے ہدایت ہے قرآن میں اور نبی پاکﷺ فرماتے ہیں کے مومن کی فراست سے ڈرو کیوں کے وہ اللہ کے نُور سے دیکھتا ہے .اور اللہ کے نُور کا وروُد دِل پے ہوتا ہے . پِھر یہاں سے اسکو ہدایت ملتی ہے اُس کتاب میں سے جو حادی نے بھیجی ہے. اور پِھر اس کے سامنے سب حقیقت کُھلتی ہے. تو عقل کی، آپکی دانش کی بنیاد ہی اِس بات پر ہے کے آپکا دِل کتنا پاک ہے. تو اگر ہدایت پانی ہے تو اسکو صاف کرو کے جہاں پے حادی کی تجّلیات اتریں اور آپکو ہدایت نصیب ہو، آپکو حقیقت کا اندازہ ہو۔ کیونکہ زندگی کا اصل مقصد تو تلاشِ حقیقت ہے۔

چیز کو پڑھ لینا ایک بات ہے۔ پڑھنے اور سمجھنے میں فرق ہے۔اور صرف پڑھ کے آپکو ہدایت ملنا ضروری تو نہیں. ہدایت کے لیے پہلے دِل کے شیشےکو صاف کرنا ہے جس میں تجّلیاتِ اِلٰہی ریفلکٹ کر سکیں اور جب وہ روشنی پڑتی ہے تو یہی قرآن کے لفظ، پھر لفظ نہیں رہتے، کچھ اور معانی دینے لگتے ہیں اور ایک مقام پر سب حقیقت سمجھا دیتے ہیں، سب راز بتا دیتے ہیں

نبی پاکﷺ نے بھی دعا فرمائی کے اللہ مجھے چیزوں کی حقیقت کا علم عطا فرما. حقائق کا علم جب تک دِل کی صفائی نا ہو تب تک نہیں ملتا۔ آپکو علم مل سکتا ہے کسی چیز کا لیکن اسکی حقیقت آپ پر تب ہی کھُلے گی جب آپکا دِل صاف ہو گا. کیا بدقسمتی ہے کہ آج کے اِنسان میں اپنے رب کو پانے کی، اس سے ہم کلام ہونے کی، حقیقت تلاش کرنے کی جستجو ہی نہیں ہے۔ مگر پھر ایسا انسان، ایسا خلیفۃ اللہ، ایسا نائب ہونا بھی کیا ہونا جس میں سے اُسکے اصل کا عکس ہی نہ واضع ہو؟ وہ کہتے ہیں کہ

عشق جان کا وبال ہے مرشد
آپکا کیا خیال ہے مرشد
نا جانے اصل کیا ہوگا
عکس تو بے مثال ہے مرشد

Advertisements