Ishq-e-Haqeeqi!

میں نے ابھی تک کی اپنی زندگی میں جو تجربہ کیا ہے وہ یہ کہ انسان نے جب بھی کسی انسان سے اُمید رکھی ہے وہ کبھی نہ کبھی ضرور دُکھی ہوا ہے۔ عشقِ مجاز ، جسکو میں دراصل عشق مانتی ہی نہیں ، ہمیشہ دُکھ دیتا ہے۔ اصل عشق تو عشقِ حقیقی ہے اور حقیقت تو صِرف ایک ہی ہے اُس کے علاوہ جو بھی ہے وہ مجاز ہے۔

دو دِن پہلے ایک بہت پیارے اِنسان نے ایک بہت گہری اور سچی بات باتوں باتوں میں کہہ دی کہ ”میں اِنسان ہوں ، کبھی بھی بدل سکتا ہوں۔۔” شاید اُسکو اِس بات کا اندازہ بھی نہیں ہُوا ہوگا کہ یہ بات کس حد تک میرے ذہن پر سوار ہو جائے گی۔ سوال یہ اٹھتاہے کہ کہ پھر ہم کیوں اِنسان سے اٹیچ ہونا چاہتے ہیں؟ ہماری اصل اٹیچمینٹ تو خالق کے ساتھ ہونی چاہیے۔ جس کے ساتھ اِس کائینات کا ذرّہ ذرّہ جُڑا ہوا ہے۔ جِس سے اگر ہم الگ ہو گئے تو فنا ہو جائیں گے۔ لیکن اب جب ہم انسان کے ساتھ اٹیچ ہو گئے ، کسی بھی وجہ سے۔ اُسکا اِخلاق ، صورت ، سیرت یا روّیہ۔ اُس کے ساتھ محبت ہو گئی۔ کبھی کبھی تو پتا بھی نہیں چلتاکہ اُس میں ایسا کیا اچھا تھا۔ لیکن آپکو لگائو ہو گیا اور آپ یہ بھول گئے کہ وہ بھی آپ جیسا انسان ہے اور مسلسل ایک تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ نا صرف ظاہری طور پر بلکہ جذباتی طور پر بھی- بچپن میں کچھ اور تھا ، جوانی میں کچھ اور ، اور بڑھاپے میں کچھ اور۔ کبھی وہ بہت سخی ہے اور کبھی بہت بخیل ، کبھی اُس میں ساری کائینات کیلیئے محبت موجود ہے اور کبھی ایک شخص کے لئے کینا رکھ کر بیٹھا ہے۔ تو اگر اُس انسان سے محبت ہو جائے پھر مُجھے یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ وہ انسان وقت کے ساتھ ساتھ بدل رہا ہے اور میں اُس سے ہر وقت ایک ہی چیز کی توقع نہیں کر سکتی۔

اسی لیَے مولا علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ انسان کو اُسکی توقعات دُکھ دیتی ہیں ، کوئی دوسرا انسان اسکو دکھ نہیں دیتا۔ کیونکہ انسان نے تو تبدیل ہونا ہی ہے۔ رشتے تبدیل ہوتے ہیں ، اپنے پرائے ہو جاتے ہیں، دوست اپنے دوستوں کی بے وفائی کے تذکرے کرتے ہیں، محبوب مُحب کی جفا کی باتیں سُناتا ہے۔ لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ دوست بے وفا نہیں تھا ۔ ہم ہی شاید ایسے کسی درجے پر تھے کہ ہم نے ایک بےوفا کو دوست سمجھ لیا۔ تو دراصل عشقِ مجازی جب رخصت ہوتا ہےتو تکلیف دیتا ہے۔ تکلیف وہ عشق نہیں دیتا جو تبدیل نہ ہونے والی حقیقت سے ہو۔ حال بھی اُسی انسان کا بہتر ہوسکتا ہے جو عشقِ حقیقی میں گرفتار ہو کیونکہ مجاز تو کبھی ایک سا رہ ہی نہیں سکتا۔

ہاں اب وہ مجاز جس میں سے حقیقت نظر آنے لگ جائے ، وہ تخلیق جس میں سے خالق نظر آنے لگ جائے ، جس کے بارے میں اللہ سائیں نے فرمایا کہ وہ میرے بندے جو راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر میرا قُرب حاصل کرتے ہیں ، ایک ایسا مقام آتا ہے کہ میں اُن کے آنکھ ، کان ، ہاتھ، پائوں ہو جاتا ہوں۔ تو یہاں پر وہ مجاز حقیقت بن گئی۔ تو ایسی کسی ہستی کے ساتھ ، پیغمبر کے ساتھ ، اولیاء اللہ کے ساتھ ، جو اپنی ذات کو فنا کر چکے، جو اُس مجاذ کو فنا کر چُکے اور خود حق ہو گئے ، اُن کے ساتھ جو جذبہ یا عشق ہے وہ عشقِ حقیقی ہو سکتا ہے۔ اُس کے علاوہ اُنس ہے ، محبت ہے ، اور بہت ساری چیزیں ہیں مگر عشق نہیں۔

میں سوچتی ہوں کہ عشق کیا ہے؟ اِسکا تعلق میری نفس کے ساتھ ہے؟ نفسیات کے ساتھ ہے؟ عقل یا دانش کے ساتھ ہے؟ یا پھر کوئی اور جذبہ ہے جہاں عقل بھی دنگ رہ جاتی ہے کہ آپ قربانی دے رہے ہیں کسی ایک شخص کی خاطر جس سے آپکا بظاہر کوئی رشتہ بھی نہیں۔ اُس انسان سے عشق اگر بنانے والے کے حوالے سے ہو تو وہ حقیقی ہے۔ وہ عشق ہے۔ لیکن اگر اُس کے ظاہری نین نقش سے ہے تو آپکو تو نین نقش پسند ہوئے نا کہ آپ اُس کے عشق میں گرفتار ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ اگر اُس کے نین نقش اتنے حسین ہیں تو اُنکو بنانے والا کیا ہو گا؟ اور مُجھے پھر اُسی بنانے والے سے عشق ہوجاتا ہے کیونکہ اُس جیسا خوبصورت تو کوئی بھی نہیں۔

توسجھنے والی بات یہ ہے کہ انسان اُسی ایک عشق میں گرفتار ہے وہ جانے یا نا جانے۔ وہ سمجھے یا نا سمجھے۔ وہ عشقِ حقیقی میں گرفتار ہے۔ کیونکہ مجاز تو اپنی حقیقت میں کچھ بھی نہیں۔ حقیقت تو بس ایک ہے جس سے اگر مجاز علیحدہ ہوا تو فنا ہو جائے گا! شیخ عبدالقادر جیلانی  ؒ  کہتے ہیں کہ اے انسان، اللہ تجھے اپنے لئے چاہتا ہے اور تُو کسی اور کا ہونا چاہتا ہے؟ ہوش کر اور ایسا ٹوٹا برتن بن جا جس میں اللہ کے سِوا کچھ نہ ٹھہرے۔ جب تو مجاز کے پیچھے بھاگے گا تو اللہ تُجھے اُسی کے ہاتھوں توڑے گا۔اور جب تو ٹوٹا ہوا واپس اللہ کا ہو جائے گا تو ساری مخلوق کو تیرے قدموں میں لا بٹھائے گا مگر پھر تیرا دِل اُن چیزوں سے بے نیاز ہوگا۔ تو میرا دِل تو بے نیاز ہو چُکا کیونکہ میں جان گئی کہ ہر محبت دُکھ دیتی ہے ، سِوائے اللہ کی محبت کے۔

Advertisements

9 thoughts on “Ishq-e-Haqeeqi!

  1. Dr Muhammad Hanif August 13, 2016 / 5:46 PM

    Very thoughtful and and Destiny for Dervish

    Liked by 1 person

  2. Farooq I.A. August 13, 2016 / 6:55 PM

    How does Ishq-e-Haqeeqi come into existance?

    Liked by 1 person

  3. sadia August 16, 2016 / 3:32 AM

    this is the best article ever read on Ishq e haqeeqi
    .. .

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s